نئی دہلی،15 /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں میں تبریز انصاری کی بھیڑ کی طرف سے کی گئی لنچنگ کے ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کو ہٹا کر غیر ارادتا قتل 304 لگا کر ملزمان کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پولیس کے اس رویہ اور انصاف کے قتل کے خلاف یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ نے دہلی واقع جھارکھنڈ بھون کا گھیراؤ کیا اور انصاف و آئینی اصولوں کو بچانے کے لئے یکجہتی کا اعلان کیا۔اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں سماجی کارکن، مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علم اور استاد، خواتین، بچے اور عام شہری شامل ہوئے۔اس احتجاج میں آئے ہوئے لوگوں نے کہا کہ ہم سب نے تقریباً20 جون کو لنچنگ کا ویڈیو دیکھا ہے، جس میں تبریز انصاری کو ایک کھمبے سے باندھ جا رہا تھا اور وحشیانہ طریقے پیٹا جا رہا تھا۔اسکو تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا تھا اور قتل کرنے والے قاتلوں کی شناخت کرنا مشکل نہیں تھا۔تعجب خیز بات یہ ہے کہ جھارکھنڈ پولیس کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے اس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی جگہ تبریز کو ہی حراست میں لے لیا اور اسے مناسب طبی سہولت فراہم کرنے کی جگہ جیل میں ڈال دیا۔جہاں تبریز نے چار دن بعد دم توڑ دیا۔تبریز انصاری کے بے رحمانہ قتل کی مخالفت میں پورا ملک بھڑک گیا تھا اور بین الاقوامی سطح پر بھی احتجاج ہوئے تھے۔اس کے بعد جھارکھنڈ پولیس نے اس جرم کے لئے پپو منڈل اور کچھ دیگر افراد کو حراست میں لیا تھا۔ڈھائی ماہ کے بعد ہم یہ جان کر حیران ہیں کہ اس چارج شیٹ میں اسی پولیس نے قتل کا الزام ہٹا دیا اور پولیس واضح طور پر قاتلوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔